ابتدائیہ

دنیا میں بہت سے فتنے ہیں مگر کچھ فتنے جو آجکل بہت عام ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان میں مبتلا ہیں۔انہیں مختلف لوگ مختلف ناموں سے جانتے ہیں مثلاً جادو ، حسد ، نظر ، بندش، جِن، شیاطین، ہمزاد ، چڑیل ، بھوت، پریت ، پری، سایہ وغیر وغیرہ ۔

حالانکہ حقیقت میں یہ سب صرف پانچ چیزیں ہیں۔

نظرِ بد جادو جِن مَرض مِن جانب اللہ

دین سے دوری کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان چیزوں جادو جنات وغیرہ کا علاج (توڑ) انہی طریقوں اور لوگوں کے ذریعےہو سکتا ہے جو یہ گندہ عمل کرتے ہیں۔ یعنی جادو کا علاج "جادو " سے ہی ہوگا ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ قرانِ پاک میں فرماتے ہیں۔

" اور کہ دو حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا ، بیشک باطل نابود ہونے والا ہے"۔(بنی اسرائیل 81)

اور ہم قرآن کے ذریعے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شِفا اور رحمت ہے ۔(بنی اسرائیل 82)

دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

"ہم نے عمل کو عمل کے اوپر پیش کیا ، ہم نے اس کو بھوسا بھوسا کر دیا" (الفرقان 23)

جب روشنی آتی ہے تو اندھیرا چاہے یا نا چاہے اُسے بھاگنا ہی پڑتا ہے یعنی جب حق(قرآن) آئے گا تو باطل (جادو، جنّات وغیرہ) بھاگ جائے گا ۔ جادو ایک گندہ عمل ہے اور اس کے مقابلے میں "قرآن " ایک پاک عمل ہے جسے ان آیات میں "شِفا اور رحمت " بیان کیا گیا ہےاور شِفا کا مطلب ہے یقینی علاج یقینی نجات۔ یعنی جب گندے عمل (جادو )کے اوپر ایک پاک عمل (قرآن) پیش کیا جائے گا ( جس میں شِفا بھی یقینی ہے) تو وہ گندہ عمل(جادو) ٹوٹ کے ریزہ ریزہ (ختم) ہو جائے گا۔

مختصر یہ کہ جادو اور اس جیسے دوسرے مسائل کا بہترین علاج(توڑ) قرآن پاک ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ

دو " شِفا "کو اپنے اوپر لازم پکڑو ، اللہ کے کلام کی تلاوت اور شہد پینا ۔(سنن ابن ماجہ ،باب:طب کا بیان، جلد سوم ، حدیث نمبر 333)

بہترین" دوا "قرآن ہے۔

(سنن ابن ماجہ ،باب:طب کا بیان، جلد سوم ، حدیث نمبر 414)

خلاصہ یہ کہ قرآن پاک "شفا اور دوا " کا مرکب ہےاور جسمانی و روحانی بیماریوں کا ایسا شافی علاج کہ اپنے کرنے والے کو دوسری چیزوں سے بے نیاز کردیتا ہے۔

اور مسلمان کو تو اپنے مسائل " مَسنون اعمال " سے حل کرنے کا حکم ہے۔اس سلسلے میں ایمان کو بڑھانے والی اور دِل کو ہلانے والی ایک حدیث نبوی ؐ کا مفہوم ہے کہ

"جس کو قرآن شِفا نہیں دے گا اللہ اس کو شِفا نہیں دے گا، جس کے لئے قرآن کافی نہیں ہے اللہ اس کے لئے کافی نہیں ہے"۔

(زاد المعاد352/4)

رقیہ کسے کہتے ہیں؟

"رُقیہ"عربی زبان میں "دَم" کرنےیعنی جھاڑ پھونک کرنے کو کہتے ہیں۔رقیہ کا ایک اور معنی " منتر" بھی ہے۔

شریعیت میں'' دَم''کا تصور بہت واضح ہے ۔جب کوئی شخص کسی تکلیف ، مصیبت ، درد، نظر بد، بخار، جادو آسیب،مسِ شیطان یا ایسی ہی کسی کیفیت سےدو چار ہو تواُسے خود کو "دَم" کر لینا چاہئے یا کسی سے کرا لینا چاہئے۔

نبی اکرم ﷺ سے خود کو "دَم کرنے" اور کسی سے کرانے"اور اسی طرح "دَم" کا تقاضا کرنے کے متعلق بہت سے اِرشادات کتبِ احادیث میں ملتے ہیں ۔" رقیہ شرعیہ" قرآن پاک کی مختلف آیات کا مجموعہ ہے یعنی مختلف سورتوں کی مختلف آیات ہیں جن کو مخصوص تعداد میں علاج کی نیت سے پڑھا جاتا ہے ۔لیکن پڑھنے کے لئے "صحیح " پڑھنا شرط ہے، اگر صحیح پڑھنا نہ آتا ہو توپھر ان آیات کو شِفا کی نیت سے "سنا " جاتا ہے۔انہیں کئی علماء نے مختلف انداز میں ترتیب دیا ہے۔

رقیہ کے ذریعے تشخیص

جب کوئی شخص رُقیہ والی آیات کو سنتا ہے تو اگر اُس شخص کے جسم پہ درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو گی، مثلاً

• قے(اُلٹی) یا متلی ہونا

• دست یا جُلاب لگ جانا

• بار بار "جمائی " آنا

• سر چکرانا

• بار بار پیشاب آنا

• بخار چڑھ جانا

• بہت خارش ہونا

• شدید پسینہ آجانا

• بلا وجہ " کانپنا"

• جسم کے کسی بھی حصے میں "درد "شروع ہوجانا

• جسم کے کسی بھی حصےکا " سُن " ہو جانا

• عورتوں کو غلط وقت پہ" ماہواری" شروع ہو جانا

تو سمجھ لیجئے کہ ضرور کوئی جادو ، نظر بد یا جنّات کا مسئلہ در پیش ہے۔

اور اگر

آیات سننے سے درج بالا کیفیات میں سے کوئی بھی کیفیت رُقیہ سننے والے شخص پہ ظاہر ''نہیں ''ہوتیں تو سمجھ لینا چاہئیے کہ

یہ شخص ہرگز کسی بھی قسم جادو جنات نظر وغیرہ کے مسئلے کا شکار نہیں ہے۔یہ شخص کسی " طبی بیماری'' میں مبتلا ہے ، جس کا'' طبی علاج '' کرنا چاہیئے۔

اور پھر بھی کوئی عامل یہ کہتا ہے کہ اس آدمی پر( جس نے رُقیہ سنا اور کوئی کیفیت ظاہر نہیں ہوئی )جادو ہے ۔۔۔یا "جن "ہے۔۔۔یا کوئی اور معاملہ بتاتا ہے ۔۔۔تو وہ

جھوٹ بول رہا ہے اور بیوقوف بنا رہا ہے۔۔۔یا ۔۔۔اُس کہنے والے کا "علم کمزور ہے"۔

دھیان رہے کہ رُقیہ کہ ذریعے تشخیص ہر آدمی کے دینی اعمال کے موافق ہے ۔

ایک شخص روزانہ "دو سیپارے " تلاوت کرتا ہے ۔اور اسے اس تلاوت میں تقریبا ایک گھنٹہ کا وقت لگتا ہے اب وہ شخص جب دو گھنٹے سےزیادہ وقت "رُقیہ شرعیہ "سنے گا تو کہیں جا کے اوپر والی علامات ظاہر ہوں گی۔

اور دوسرا شخص تلاوت، اعمال وغیرہ بالکل نہیں کرتا تو اس پر کچھ ہی دیر میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی۔

یعنی اس بارے میں کوئی "مدت حتمی "نہیں ہے۔مختلف اشخاص کی مختلف ہو سکتی ہیں۔

رقیہ کے ذریعے " علاج"

اگرکسی شخص پر مذکورہ کیفیات میں سے کوئی بھی کیفیت ظاہر ہوئی ہے مثلاً

جسم کے کسی حصے میں درد شروع ہو گیا ہے تو اسکا علاج یہ کہ اب یہ شخص رُقیہ شرعیہ کی آیات کو شِفا کی نیت سے بار بار سنے

رُقیہ سننے کے دوران" شِفا کی نیت" بہت ضروری ہے

عام نیت

اے اللہ ! میرے تعلق سے ہر وہ" شَر" (نظر بد، جادو، جِن،بیماری وغیرہ) جو تیرے علم میں ہے ، اُس سے شِفا عطا فرما۔

خاص نیت

جو مسئلہ در پیش ہو صرف اُسی کی نیت کی جائے۔

جتنا جتنا سنتے جائیں گے، اُتنی ہی تکلیف بڑھتی چلی جائے گی۔

ہو سکتا ہے کہ تکلیف اتنی بڑھ جائے کہ سننے والے کو لگے کہ ابھی میری موت واقع ہو جائے گی، حالانکہ ایسا ہوتا کچھ بھی نہیں۔

سننا ہرگز نہ چھوڑیے ۔جب تک تکلیف ختم نہیں ہو جاتی تب تک سنتے ہی جائیے۔

اگر قے(اُُلٹی) کی کیفیت ہے تو ہو سکتا ہے کہ ایک دن میں چالیس پچاس بار یا سو بار قے(اُُلٹیاں) ہو جائے ۔

دست یا جُلاب ہوں،تو وہ بھی اتنی ہی تعداد میں ہو سکتے ہیں کچھ بھی ہو سنتے جائیے۔

دست یا اُلٹیوں کو روکنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے۔

مشروبات کے ذریعے دست یا اُلٹیوں کی وجہ سے ہونے والی "پانی کی کمی" کو ضرور پورا کیجئے ۔گلوکوز یا کوئی بھی توانائی بحال کرنے والی چیز استعمال کیجئے

رُقیہ" کب تک "سننا ہے؟

جب تک ظاہر ہونے والی تکلیف ختم نہیں ہو جاتی۔

رُقیہ سننے کے "اوقات کی ترتیب"

• فجر کے بعد سے لےکر عشاء تک

• یعنی جب تک جاگ رہے ہیں ،سنتے رہیے

• رُقیہ سنتے وقت ہرگز کسی سے بات چیت نہ کیجئے

• کھانے اور نمازوں کے اوقات میں وقفہ کیجئے

• قیلولہ (دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام )ضرور کیجئے

• اس کے علاوہ دن میں ہرگز نہ سویا جائے۔

• عشاء کے بعدجلدی سو جائیے

اس ترتیب سے یہ ہو گا کہ اندر والی چیز " جادو یا جن وغیرہ"کو آرام کا موقع نہیں ملے گا۔ مسلسل رُقیہ سننے سے وہ بے قرار ہو گا۔

شیطان کو قرآن پاک سنایا جائے تو اس کا برا حا ل ہو جاتا ہے۔

وہ دن میں سُلانے کی کوشش کرے گا ۔لیکن سونا نہیں۔ (قیلولہ کے علاوہ )

رات کو وہ جگانے کی کوشش کرے گا لیکن جاگنا نہیں ۔

پھر بھی اگر رات کو آنکھ کھل جائے تو " آیۃالکرسی اور سورۃالفلق ، سورۃالناس " پڑھتے رہیے ۔انشاءاللہ جلد ہی نیند آ جائے گی۔

یاد رہے کہ

رُقیہ سننے کے دوران ہرگز کسی اور کام یا بات چیت میں مصروف نہ ہوں

رُقیہ سنتے ہوئے بیٹھے بیٹھے تھک جائیں تو لیٹ کے رُقیہ سُنیے ، لیٹے ہوئے نیند آنے لگے تو نیند ختم کرنے کے لئے کھڑے ہو کر سُنیے ، کسی بھی حال میں سُنیے مگر تکلیف کےختم ہونے تک تسلسل برقرار رکھیے۔

نماز یا کھانے کے وقفے کے دوران جب رُقیہ سننا بند کیا جائے گا ۔۔۔تو فورا تکلیف میں کمی آنا شروع ہو جائے گی ۔۔۔یا ہوسکتا ہے کہ تکلیف بالکل ہی ختم جائے ۔۔۔مگر جیسے ہی دوبارہ رُقیہ سننا شروع کریں گے۔۔۔ ویسے ہی دوبارہ تکلیف شروع ہو جائے گی۔

رُقیہ سنتےہوئے غور کیجئے کہ کن آیات پہ تکلیف شروع ہوتی ہے۔ یا۔ تکلیف میں شدت آتی ہے۔۔۔پھر باقی آیات کو چھوڑ کر ۔۔۔ بار بار انہی آیات کو سنیے۔

مثال کے طور پہ" رُقیہ شرعیہ" سورۃ فاتحہ سے شروع ہوتا ہے سورۃ فاتحہ سُنی ۔۔۔ کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ پھر سورۃ بقرہ کا پہلا رکوع سنا ۔۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔۔آخری رکوع آیا ۔کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ مگر جیسے ہی آیۃالکرسی شروع ہوئی تو ۔۔۔گردن میں درد ہو گیا ۔۔۔اور جیسے ہی آیۃالکرسی ختم ہوئی ۔۔۔تو گردن کے درد میں کمی آگئی ۔۔۔اورپھر سےجب آیۃالکرسی پہ پہنچے ۔۔۔توپھر سےگردن کے درد میں شدت آ گئی۔۔۔لیکن آگے پورے رُقیہ میں کوئی خاص تکلیف محسوس نہیں ہو تی۔ پس سمجھ لینا چاہئیے کہ ۔۔۔اس تکلیف کا علاج "آیۃالکرسی" ہے۔

اب آیۃالکرسی ہی سُنیے ۔۔۔اور جب تک تکلیف ختم نہیں ہو جاتی ۔۔۔تب تک آیۃالکرسی ہی سُنتے جائیے۔

یعنی جن جن آیات پہ بھی تکلیف شروع ہو یا تکلیف میں شدت آئے ۔۔۔انہی آیات کو بار بار سنیئے ۔۔۔یہی علاج ہے۔

رُقیہ سُننے سے " تکلیف" کیوں ہوتی ہے؟

جب کوئی شخص رُقیہ سنتا ہے تودراصل اندر والی چیز "جادو یا جنات وغیرہ" کو تکلیف ہوتی ہے جسے مریض بھی محسوس کرتا ہے۔

رُقیہ سے علاج کے دوران خصوصی طورپہ " سر میں تیل کی مالش" ضرور کیجئے۔

رُقیہ سے علاج کے دوران خصوصی طور پہ اور اس کے علاوہ عام دنوں میں بھی سر پہ تیل کی مالش کا اہتمام کیجئے۔اس سے دماغی توانائی حاصل ہوتی ہے۔

احادیث کے مفہوم سے پتہ چلتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر میں تیل ٹپکنے کی وجہ سے ٹوپی کے نیچے ایک اور کپڑا رکھتے۔یعنی تیل کا بہت زیادہ استعمال کرتے۔

مولانا جنید صاحب کہتے ہیں کہ سر میں تیل کی مالش جادو وغیرہ کا" ایک چوتھائی علاج "ہے۔

علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ سال میں دو دفعہ پورے جسم کی مالش "جسم کا حق" ہے۔ کسی خاص تیل کی شرط نہیں، جو تیل بھی میسر ہو استعمال کیجئے۔

علاج کب "مکمل "سمجھا جائے گا

جب چار،پانچ گھنٹے مسلسل "مکمل رُقیہ کی آیات" کو سنا جائے اور"کوئی تکلیف ظاہر نہ ہو"تو سمجھ لیجئے کہ الحمدللہ علاج مکمل ہو گیا۔

رُقیہ کے ذریعے "علاج کی مدت"

بعض لوگ "تین سے چار دن "میں بھی شفا یاب ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات یہ مدت کم و بیش "پندرہ بیس دن" بھی ہو سکتی ہے۔اس کا انحصار درج ذیل تین چیزوں پہ ہے۔

• شفا کی نیت

• یقین

• محنت

الحمدللہ "رُقیہ شرعیہ" کے ذریعے علاج کی مدت "دنوں "میں ہی ہے ۔۔۔نہ کہ مہینوں اور سال

رُقیہ شرعیہ جتنا "توجہ ، یقین اور تسلسل" سے سنا جائے گا انشاءاللہ اُتنا ہی جلدی علاج ہو گا۔

رقیہ کے ذریعے " جِن کی حاضری "

جب رُقیہ توجہ اور تسلسل کے ساتھ سنا جاتا ہے تو اگر مریض پہ "جن" مسلط ہے تو وہ کم و بیش ایک دو دن میں حاضر ہو جائے گا۔

وہ شروع شروع میں دھمکیاں دے گا کہ ۔۔۔اس رُقیہ سے کچھ ہونے والا نہیں۔۔۔کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔ نہیں جاؤں گا۔۔۔وغیرہ وغیرہ

اُسے کہیئے کہ ٹھیک ہے مت جاؤ ۔۔۔یہیں رہو ۔۔۔قرآن سنو۔۔۔اور جب مریض تسلسل کے ساتھ رُقیہ سنتا ہی رہے گا تو پھر

وہ ''جن '' منِتوں پہ اتر آئے گا کہ۔۔۔ کچھ تو وقت دو ۔۔۔معاف کر دو ۔۔۔مجھے جانے دو۔۔۔وغیرہ وغیرہ

ایسے وقت اس"جِن" سے جو پوچھا جائے۔۔۔ وہ بتائے گا ۔

پوچھیئے جادو "، کس چیز پہ کروایا گیا ہے"۔

اس سے پوچھیے کہ وہ جِن

مریض پہ کیوں مسلط ہے؟

"خود "آیا ہے؟

یا "کسی "نے جادو کے لئے بھیجا ہے؟

وہ آپ کو ہر بات بتائے گا ۔۔۔مگر اس کی ہر بات کا۔۔۔ اعتبار ہرگز مت کیجئے ۔۔۔خاص کرجب وہ "جادو کروانے والے کا نام " بتائے ۔۔۔ وہ شیطان ہے ۔۔۔

کسی رشتہ دار یا دوست احباب ۔۔۔یا ۔۔۔جن لوگوں سے آپ کی نہیں بنتی ۔۔۔ ان کا نام لے کر آپ کو ان سے لڑوانے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ جادو والی چیز اور جگہ کے بارے میں ۔۔۔اللہ تبارک و تعالیِ سے فضل کی امید رکھتے ہو ئے اپنی عقل و فراست سے کام لیجئے۔۔۔ اور فوراً بتا ئی گئی جگہ پہ کسی کو بھیج کر "جادو والی چیز "تلاش کیجئیے ۔ ۔۔۔اور جب وہ چیز مل جائے تو۔۔۔ اسے درج ذیل طریقے سے ضائع کر دیجئے۔۔۔۔ ضائع کرتے ہی جادو کے اثرات "ختم "ہو جائیں گے۔

رُقیہ کے ذریعے جادو کی "جگہ کا تعین"

جِن خود بھی بتا سکتا ہے ۔دوسرے یہ کہ اللہ پاک خواب کے ذریعے دکھاتے ہیں کہ "جادو کس نے ،کہاں پہ، کس چیز پہ، کس کے ذریعے کرایا "اور کبھی اللہ پاک کا ایسا فضل بھی ہوتا ہے کہ رُقیہ سننے کے دوران مریض" جاگتے ہوئے بھی "سب کچھ دیکھ لیتا ہے۔

یہ سب اللہ تبارک و تعالی کے" کلام پاک" پہ "یقین اور محنت" کی برکات ہیں۔

جس چیز پہ جادو کیا گیاہے اسے ضائع کرنے کا طریقہ

ایک برتن میں پانی لیں پھر اس برتن کو اپنے منہ کے قریب کر کے درج ذیل آیات پڑھیں

سورۃ الاعراف ۔۔۔ آیت نمبر 117 ۔۔۔تا۔۔۔122

• سورۃ یونس ۔۔۔ آیت نمبر ۔۔۔81 ۔۔۔ تا ۔۔۔82

• سورۃ طٰہٰ ۔۔۔ آیت نمبر 69

پھر اس جادو والی چیز کو ۔۔۔چاہے وہ کاغذ پہ ہو۔۔۔یا مٹی پہ ہو ۔۔۔یا کسی اور چیز پہ۔۔۔اُس پانی میں حل کر دیں۔اس کے بعد اُس پانی کو لوگو ں کے عام راستے سے ہٹ کر کہیں ایک طرف انڈیل دیں ۔

اگر " جِن" کوئی مطالبہ رکھے کہ فلاں کام کر دو۔۔۔یا۔۔۔فلاں چیز ۔۔۔فلاں مقام پہ رکھ دو ۔۔۔تو میں چلا جاؤں گا۔

اس کی بات ہرگز نہ مانیئے ۔۔۔ اور اس سے کہیئے کہ۔۔۔ جانا ہے تو ایسے ہی جاؤ۔۔۔ورنہ یہیں رہ کرقرآن سنو۔۔۔۔ آخر کار اسے جاناہی پڑے گا ۔

مصیبت ختم ہونے پر اللہ پاک جل شانہ کا شکر ادا کیجئے اور حسبِ حیثیت صدقہ کیجئے۔اور آئندہ حفا ظت کے لئے "مسنون دعاؤں اور اعمال" کا اہتمام کرتے رہیئے

آپ " چاہیں ۔۔یا۔۔نہ چاہیں"۔۔۔

جادو جس نے کروایا ہے۔۔۔اُسی پہ" پلٹ" جائے گا۔

جب آپ علاج بالقرآن یعنی رُقیہ شرعیہ کے ذریعے علاج کرتے ہیں تو اُس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ۔۔۔آپ چاہیں یا نہ چاہیں۔۔۔ جس نے آپ پہ جادو کروایا ہے۔۔۔ جادو۔۔۔ اُسی شخص پہ لوٹ جائے گا۔۔۔اور کوئی بھی جادو گر یا عامل چاہے جتنی بھی کوشش کر لے۔۔۔اُس جادو کو۔۔۔واپس نہیں لے سکتا۔۔۔

اب اگر وہ شخص ''رُقیہ شرعیہ ''یعنی قرآن سے بھی علاج کرے گا۔۔۔ تو بھی اُس کا علاج نہیں ہو گا۔۔۔اُس کا علاج ایک ہی صورت میں ہو گا۔۔۔

کہ آپ اُسے معاف کر دیں۔

اور آپ کو معاف کر بھی دینا چاہیئے کیوں کہ

اللہ تبارک و تعالی معاف کرنیوالے کو پسند کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور وہ شخص بھی" اللہ کا بندہ" اور "رسول اللہ ﷺ کا اُمتی "ہے۔

اللہ پاک نے آپ کی تکلیف ، مصیبت ہٹا دی ۔۔۔ اب آپ کو بھی معاف کر دینا چاہیئے۔

اللہ پاک سب مسلمانوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔اور ہم سب کو دنیا و آخرت کی آسانیاں اورکامیابیاں نصیب فرمائے۔آمین

ہر تکلیف "جادو ، جِن" نہیں ہو تی۔

ضروری نہیں کہ ظاہر میں دکھائی دینے والی ہر تکلیف جادو یا جنات کی وجہ سے ہو ۔

مولانا جنید صاحب واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص میرے پاس علاج کے لئے آیا اور بتایا کہ وہ " جادو" میں مبتلا ہے ۔"رُقیہ شرعیہ " کے ذریعے چیک کرنے پہ معلوم ہوا کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔مگر وہ بضد تھا کہ وہ بہت سے " عاملوں " کے پاس گیا

ہے اور سبھی نے "جادو " بتایا ہے ۔ مگر علاج کوئی بھی نہیں کر سکا ۔

وہ جس تکلیف میں مبتلا تھا وہ دیکھنے میں " جادو " ہی لگتی تھی ۔ تکلیف کیا تھی ۔اس نے بتایا کہ

میرا ہوٹل کا کاروبار ہے ۔ جب بھی ہوٹل میں جاتا ہوں اور اپنے سٹاف کو دیکھتا ہوں تو میرے سر میں درد شروع ہو جاتا ہے ۔ میرا بیٹا اگر سو جائے تو اسے سوتا دیکھ کر میرا رونے کو دل چاہتا ہے۔وغیرہ وغیرہ

میں نے پوچھا : سر میں تیل لگاتے ہو ، اس نے بتایا کہ وہ بہت عرصے سےتیل کا بالکل بھی استعمال نہیں کرتا ۔ ۔ اب مسئلہ کیا تھا؟ ۔۔۔ "دماغ میں خشکی" ہو گئی تھی۔

میں نے اسے کچھ دوائیں دیں اور سر میں تیل کی مالش کی تاکید کی ۔تین چار دن بعد بہت خوش خوش واپس آیا اور بتایا کہ الحمد للہ اُس کا مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔

یعنی ہر تکلیف " جادو جنات وغیرہ نہیں ہوتی لیکن مریض کا " کمزور یقین اور جھوٹے اور کم علم عامل" دونوں مل کر مریض کو پریشان کر دیتے ہیں۔

جادو۔۔۔ اور۔۔۔ بیماری میں" فرق" کیسے معلوم ہو گا؟

قرآن پاک یعنی " رُقیہ شرعیہ" سب سے بڑا ذریعہ ہے جادو ۔۔۔ جنات۔۔۔ نظرِ بد وغیرہ ۔۔۔اور ۔۔۔" بیماری " میں فرق معلوم کرنے کے لئے۔

ایک ذرہ کے برابر بھی اگر جادو وغیرہ کا اثر ہو گا تو " رُقیہ شرعیہ " سننے سے فورا سامنے آجائے گا ۔ پہلے بتائی گئی علامات میں سے کوئی نہ کوئی علامت ضرور ظاہر ہو جائے گی۔۔۔اور اگر رُقیہ سننے سے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔۔ تو یقین کر لیجئے کہ یہ تکلیف کوئی " طبّی بیماری " ہے ۔

عاملوں کے چکر لگانے کی بجائے اس کا " طبی علاج " کروایئے۔

ہر بیماری کا " صِرف طبّی(Medically)"علاج نہیں ہوتا ۔

بیماری کی صحیح تشخیص ، صحیح اور بہترین دواؤں کے ساتھ علاج کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی مریض صحت یاب نہیں ہوتا ۔

اسکی پہلی وجہ جادو اور جِنات ہیں۔جو علاج کے دوران رکاوٹ پیدا کرتے رہتے ہیں ۔جسم کے اندر دوا کو اثر انداز ہونے سے روکتے ہیں۔جس کی وجہ سے علاج کا دورانیہ بڑھتا رہتا ہے اور ڈاکٹر طریقہءکار بدلنے میں لگے رہتے ہیں۔

کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ جب جادو اور جنات کا مسئلہ حل کر لیا گیا تو وہی مریض اُنہی دواؤں اور طریقہءعلاج کے ساتھ بہت کم وقت میں بالکل ٹھیک ہو گیا ۔

اور دوسری وجہ مِن جانب اللہ ہوتی ہے ۔

سرطان (کینسر) کا سب سے بڑا علاج" رُقیہ شرعیہ" ہے ۔

مولانا جنید صاحب کہتے ہیں کہ کینسر صرف "جادو اور جنات " کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس ضمن میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ

" اتقو طعن والطاعون" نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے جس کا مفہوم ہےکہ " طعن سے بچو ، طاعون سے بچو" (بیان مولانا جنید صاحب)

صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے پوچھا کہ طاعون تو معلوم ہے" طعن کیا ہے؟

"آپؐ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ " شیطان تمہارے اندر چبھاتا ہے" ۔

علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس دور کا " طعن " سرطان( کینسر) ہے۔